Dehlez.com

Call Directions Website Contact the business

Dehlez.com Dehlez.com دھلیز۔کام
A Property Marketing Company
Real State Sale Purchase Rent

خصوصی ڈسکاونٹعبداللہ سٹی اسلام اباد نیو ریٹ 22 لاکھ  50  ہزار 5 مرلہ پرانے ریٹس 16 لاکھ 5 مرلہ  پر فائل پلاٹ حاصل کرنے ک...
05/09/2026

خصوصی ڈسکاونٹ

عبداللہ سٹی اسلام اباد نیو ریٹ 22 لاکھ 50 ہزار 5 مرلہ پرانے ریٹس 16 لاکھ 5 مرلہ پر فائل پلاٹ حاصل کرنے کا اخری موقع۔۔۔
اج ہی اپنی فائل پلاٹ بک کرواہین۔
مارکیٹڈ باے دہلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ۔
کال وٹس ایپ : 03139888735

05/09/2026

پارٹ ٹاہم ارننگ۔

پتا ہے مستقل مزاجی کیا ہوتی ہے؟ پتا ہے معجزے
کیسے رونما ہوتے ہیں؟

جب ایک نوجوان اپنی سیلز مینی کی نوکری کے ساتھ ساتھ پراپرٹی رئیل اسٹیٹ کو سیکھنے کی کوشش کرتا ہے، روزانہ شام کو ٹائم نکال کے ہمارے ساتھ آ کے بیٹھتا ہے۔ کام سیکھتا ہے اور اپلائی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک مہینہ گزرتا ہے، دوسرا مہینہ، تیسرا مہینہ، کرتے
کرتے پورا سال گزر جاتا ہے۔

اس پورے سال میں اس نوجوان کے چہرے پہ مایوسی نہیں دیکھی، کبھی کوئی شکوہ نہیں سنا، صرف امید اور یقین کہ ایک دن نتیجہ ضرور نکلے گا۔

اور پھر پتا ہے ایک دن کیا ہوا؟

یہی نوجوان ۔۔۔ ہمارے آفس میں مین آف دی منتھ قرار پایا اور ایک ہی مہینے میں چھ بزنس ڈیلز کلوز کر کے پچھلے پورے سال کی تھکن اتار دی۔
آپ کس انتظار میں ہیں؟

بیچنے کے لیے پراپرٹی رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کی شاندار پروڈکٹ آپ کے لیے حاضر ہے۔ سکھانے کے لیے ہم اور ہماری ٹیم آپ کے لیے حاضر ہے۔ خریدار کے طور پر پاکستان کی پچیس کروڑ آبادی آپ کے سامنے ہے۔ مدد کرنے اور معجزات رونما کرنے کے لیے خدائے بزرگ و برتر کی ذات اقدس موجود ہے۔

آخر انتظار کس چیز کا؟؟؟؟

Follow for Joining us in Property Real Estate Business 👇

Dehlez.com ... دہلیز.کام
Property Marketing
For More Details Call/WhatsApp !
03149888000



B Greens In Heart Of Gulberg Greens Islamabad.Book Your Ballotted Plot NowLimited Plots Available.Marketed By Dehlez.com...
26/08/2026

B Greens In Heart Of Gulberg Greens Islamabad.
Book Your Ballotted Plot Now
Limited Plots Available.
Marketed By
Dehlez.com
Property Marketing
Call/WhatsApp :
03149888000

پراپرٹی رییل اسٹیٹ کنسلٹنٹ/پراپرٹی ڈیلر !😥 یہ وہ خوف ہے جو شاید صرف ایک پراپرٹی ڈیلر ہی سمجھ سکتا ہے۔جب ایک ڈیل مکمل ہوت...
26/08/2026

پراپرٹی رییل اسٹیٹ کنسلٹنٹ/پراپرٹی ڈیلر !

😥 یہ وہ خوف ہے جو شاید صرف ایک پراپرٹی ڈیلر ہی سمجھ سکتا ہے۔
جب ایک ڈیل مکمل ہوتی ھے مالک بھی سامنے اور خریدار دونوں آمنے سامنے۔ اللہ کے فضل سے بات بنتی ھے، معاہدہ ہوا، پیمنٹس ہوئیں، گھر کا قبضہ بھی مل گیا۔ لیکن سچ بتاؤں؟ ڈیل مکمل ہونے کے بعد بھی ایک ڈیلر کے دل میں سکون نہیں آتا، کیونکہ سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے...

"پتہ نہیں کمیشن ملے گا بھی یا نہیں؟ اگر ملے گا تو پورا ملے گا یا اس پر بھی بحث ہوگی؟"
افسوس کی بات یہ ہے کہ پراپرٹی مالک اور خریدار، دونوں اپنے فائدے کے لیے ہر حد تک چلے جاتے ہیں۔ 50 لاکھ، ایک کروڑ کی پراپرٹی کی ڈیل طے ھو جاتی ھے کروڑوں دینے لینے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے ہزاروں نہیں، لاکھوں روپے کا فرق برداشت کر لیتے ہیں۔ مگر جب اس شخص کا حق دینے کی باری آتی ہے جس نے دونوں کو ایک میز پر بٹھایا، اعتماد پیدا کیا، وقت لگایا، بار بار وزٹ کروائے، فون کیے، مذاکرات کروائے اور آخرکار ڈیل مکمل کروائی... تو اچانک سب کو کمیشن بہت زیادہ لگنے لگتا ہے۔

کوئی کہتا ہے "یار تھوڑا کم کر لو۔"
کوئی کہتا ہے "ابھی پیسے نہیں ہیں۔"
اور کوئی تو ایسے غائب ہو جاتا ہے جیسے ڈیل خود بخود ہو گئی ہو۔

ذرا سوچیں...

اگر ڈیلر نہ ہوتا تو کیا آپ ایک دوسرے تک پہنچ سکتے تھے؟ کیا اتنی آسانی سے اعتماد قائم ہو جاتا؟ کیا اتنے کم وقت میں معاملہ طے ہو جاتا؟

ڈیلر صرف دروازہ نہیں کھولتا، وہ دو اجنبی لوگوں کے درمیان اعتماد کا پل بناتا ہے۔ وہ اپنا قیمتی وقت، اپنی محنت، اپنی گاڑی کا خرچ، اپنا دفتر اور دونوں پارٹیوں کو چاۓ پانی بلکہ بعض دفعہ کھانا بھی اپنی جیب سے کھلاتا ھے اور اپنا تجربہ، اپنی عزت اور اپنا نیٹ ورک استعمال کرتا ہے تاکہ آپ کی ضرورت پوری ہو سکے۔

لہٰذا جب ڈیل مکمل ہو جائے تو کمیشن کو احسان نہ سمجھیں، یہ ڈیلر کا حق ہے۔ حق ادا کرنے سے نہ دولت کم ہوتی ہے اور نہ عزت، بلکہ برکت بڑھتی ہے۔

تمام پراپرٹی مالکان اور پراپرٹی خریدار کرایہ داروں سے صرف ایک گزارش ہے کہ جس طرح آپ اپنے حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، اسی طرح اس شخص کے حق کا بھی خیال رکھیں جس کی محنت نے آپ کو ایک دوسرے تک پہنچایا۔

یاد رکھیے، ڈیل صرف گھر کی نہیں ہوتی... ڈیل اعتماد کی بھی ہوتی ہے، اور اعتماد کی قیمت ہمیشہ عزت کے ساتھ ادا کی جانی چاہیے۔

دھلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ

🏡✨ رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے لیے بڑی خوشخبری! ✨🏡🎉 وفاقی بجٹ 2026-27 میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں نم...
14/06/2026

🏡✨ رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے لیے بڑی خوشخبری! ✨🏡

🎉 وفاقی بجٹ 2026-27 میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں، خریداروں اور فروخت کنندگان کو اہم ریلیف ملے گا۔

📈 فروخت کنندگان (Seller) کے لیے

💰 10 کروڑ روپے سے زائد: 5.5% ➜ 2.75%
💰 5 کروڑ روپے تک: 5% ➜ 2.5%
💰 50 لاکھ روپے سے کم: 4.5% ➜ 2.25%

📉 خریداروں (Purchaser) کے لیے

🏠 10 کروڑ روپے سے زائد: 2.5% ➜ 1.25%
🏠 5 کروڑ روپے تک: 2% ➜ 1%
🏠 50 لاکھ روپے سے کم: 1.5% ➜ 0.75%

✅ کم ٹیکس، بہتر سرمایہ کاری کے مواقع
✅ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں مثبت پیش رفت
✅ گھر خریدنے اور پراپرٹی میں سرمایہ لگانے کا بہترین وقت

📲 پراپرٹی خریدنے، فروخت کرنے یا سرمایہ کاری کے لیے رابطہ کریں:
کال وٹس ایپ :
03149888000
دھلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ

06/05/2026

اگر آپ پردیس میں ہیں، چاہے آپ دس گھنٹے کی جاب کرتے ہوں، دو شفٹیں لگاتے ہوں یا دیہاڑی پر کام کر رہے ہوں، تو ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں: پاکستان میں ہر مہینے کچھ نہ کچھ ضرور انوسٹ کریں۔ رقم کم ہو یا زیادہ، تسلسل سب سے اہم ہے۔ آج کا چھوٹا فیصلہ کل کا بڑا سہارا بن سکتا ہے۔

پردیسی کے لیے سب سے محفوظ اور بہترین سرمایہ کاری پراپرٹی ہے۔ زمین، مکان یا چھوٹا پلاٹ—یہ صرف اینٹ اور مٹی نہیں ہوتے، یہ واپسی کی امید ہوتے ہیں۔ پراپرٹی وقت کے ساتھ اپنی قدر بڑھاتی ہے اور انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اس کا اب بھی اپنے وطن سے ایک مضبوط رشتہ قائم ہے۔

پردیس میں ساری زندگی گزار دینا آسان لگ سکتا ہے، مگر اس کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔ بچے وہیں کے ہو جاتے ہیں، زبان بدل جاتی ہے، تہذیب بدل جاتی ہے، اور آہستہ آہستہ وطن ایک یاد بن کر رہ جاتا ہے۔ اس سے بھی بڑا نقصان یہ ہے کہ پھر بچے بھی پردیس کے اسی چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ نسل در نسل پردیسی کوئی کامیابی نہیں، بلکہ ایک نہ ختم ہونے والا سفر ہے جس میں منزل کہیں نظر نہیں آتی۔

دانشمندی اسی میں ہے کہ آپ اپنے بچوں کے لیے پاکستان میں کچھ بنیاد رکھیں۔ کوئی چھوٹا کاروبار، دکان، ورکشاپ، زراعت یا کوئی اور ذریعۂ روزگار۔ تاکہ کل کو وہ یہ فیصلہ خود کر سکیں کہ انہیں پردیس جانا ہے یا اپنے وطن میں عزت اور سکون کے ساتھ رہنا ہے۔ انہیں مجبور نہ ہونا پڑے، جیسا کہ آپ ہوئے۔

یاد رکھیں، پردیس صرف پیسہ دیتا ہے، شناخت نہیں۔ شناخت اپنی مٹی سے ملتی ہے۔ اس لیے پردیس کو ذریعہ بنائیں، منزل نہیں۔ آج اگر آپ نے ہوش مندی سے سرمایہ کاری کر لی، تو کل آپ کی واپسی آسان ہوگی، اور آپ کی آنے والی نسلیں پردیسی کے دکھ سے محفوظ رہیں گی۔

اپنے لیے نہیں تو کم از کم اپنے بچوں کے لیے یہ فیصلہ آج ہی کر لیجیے۔۔۔

دھلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ
کال / وٹس ایپ

0314 9888000

06/05/2026

دیس میں کماتے تھے تھوڑا تھوڑا
پھر پیسہ پیسہ جوڑا
دیس کی بہاروں سے ناطہ توڑا
اپنے پرائے سب کو چھوڑا
پردیس میں آ کر
پھر پیسہ پیسہ جوڑا ...
لیکن ...
اک دن واپس جانا ہے-
آخر .... دیس ہی آخری ٹھکانا ہے ...
کیا میری سیونگ کسی کام آ سکے گی؟
بااختیار بزنس کے ذریعے کچھ دام لا سکے گی؟

جی ہاں ... کیوں نہیں !!

آپ ایک اوورسیز ہیں، ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں یا سرمایہ دار اور پاکستان میں ایک محفوظ بزنس کے متلاشی ہیں تو اپنا روپیہ ایک پھلتے پھولتے کاروبار میں لگا کر ہمارے بزنس پارٹنر بن جائیے-

گزشتہ چار برسوں سے کامیابی کا سفر طے کرتا دہلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ آپ کو دیتا ہے بہترین پارٹنرشپ کے ساتھ ساتھ محفوظ بزنس پارٹنرشپ کا بہترین موقع

سود سے پاک سو فیصد حلال، محفوظ اور بہترین منافع بغیر کسی الجھن اور پریشانی کے گارنٹی شدہ کاروبار

⬅️تو دیر کس بات کی، آج ہی ہم سے ملاقات کیجیے اور مزید معلومات کے لئے ابھی ڈائل کیجئے:
𝐂𝐨𝐧𝐭𝐚𝐜𝐭 𝐮𝐬 𝐟𝐨𝐫 𝐦𝐨𝐫𝐞 𝐝𝐞𝐭𝐚𝐢𝐥𝐬:
دہلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ
➡️03149888000

اوور سیز پاکستانیوں کا المیہ  ہیں  پاکستان سے باہر مزدوری کرنے والے ہر دوسرے پاکستانی کی ایک ہی کہانی ہے ۔اچھے مستقبل او...
06/05/2026

اوور سیز پاکستانیوں کا المیہ ہیں

پاکستان سے باہر مزدوری کرنے والے ہر دوسرے پاکستانی کی ایک ہی کہانی ہے ۔

اچھے مستقبل اور خاندان کی ضروریات پوری کرنے کا خواب آنکھوں میں سجائے یہ بیرون ملک جاتے ہیں ۔ انتہائی سخت وقت دیکھتے ہیں ۔ اپنی جوانی کا بڑا حصہ بیوی بچوں اور والدین سے دور گزار دیتے ہیں ۔ بیرون ممالک خصوصا عرب ممالک جانے والے وہاں کس حال میں ہیں یہ وہی جانتے ہیں ۔ پاکستان آتے ہیں تو بھرم رکھنے کے لیے کاٹن کا سوٹ پہنے نئے ہونڈا 125 پر گھومتے ہیں ، رشتے داروں اور دوستوں کو تحائف دیتے ہیں ۔ دو چار ماہ بعد واپس جاتے ہیں تو پھر وہی مزدوری ، وہی پریشانی اور وہی میلے کپڑوں میں پورا سال گزار دیتے ہیں ۔ پیسے بچانے کے لیے ہانڈی وال بنتے ہیں ، ایک ایک کمرے میں کئی کئی ساتھی مل کر رہتے ہیں ، چھوٹی چھوٹی بات پر بچت کرتے ہیں ۔اسی بچت سے بہنوں کی شادی ، بھائیوں کے ٹیشن اور بیوی بچوں کے اخراجات پورے کرتے ہیں ۔ جو ان سے کچھ بہتر ملازمت پر ہوں وہ بھی پاکستان پیسے بھیجتے ہیں اور یہ سب سوچتے ہیں کہ بس دو چار سال بعد واپس جا کر پاکستان میں سیٹل ہو جائیں گے ۔ اپنا کام کریں گے اور پرسکون زندگی گزاریں گے ۔ یہ دو چار سال دو دہائیوں پر مشتمل ہو جاتے ہیں ۔

بدقسمتی سے 15 ، 20 سال کی کڑی محنت اور جوانی تباہ کر دینے کے بعد جب یہ پاکستان آتے ہیں تو پتا لگتا ہے کہ ان کے پلے کچھ نہیں ہے ۔ جو پیسے یہ گھر بھیجتے رہے وہ ساتھ ساتھ ہی خرچ ہوتے گئے ۔ چھوٹا بھائی "وڈے پائین باہر ہوندے نیں" کے نعرے کے ساتھ ہڈ حرام ہو چکا ہوتا ہے ۔ ماں باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچے سب ان پیسوں پر ایکسٹرا عیاشی کرتے رہے جو انہوں نے بھیجے تھے ۔ کسی کا آئی فون کے بنا گزارہ نہیں ہوتا تھا ، کسی کو ہر سال نیا 125 چاہیے ہوتا تھا ، کوئی ڈیٹ اور دوستوں کی پارٹیوں میں پیسہ اجاڑتا رہا ۔ قصہ مختصر نہ تو کوئی سیونگ ہوتی ہے اور نہ ہی آمدن کا کوئی ایسا ذریعہ کہ کام چل سکے ۔ دو چار مہینے بعد ہی گھر والے زور دیتے ہیں گزارہ نہیں ہوتا آپ دوبارہ باہر چلے جائیں

انہیں اس وقت پاکستان میں نہ کوئی ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی کاروبار کے لیے پیسے ہوتے ہیں ۔ یہ دکھی دل کے ساتھ دوبارہ پردیس چلے جاتے ہیں اور پھر ان کی واپسی یا تو مر کے ہوتی ہے یا کسی سنگین بیماری کا شکار بن کر ناکارہ ہونے پر آتے ہیں ۔ جو پاکستان رک جائیں انہیں زیادہ عرصہ جیتے نہیں دیکھا ۔ اپنوں کی بے گانگی اور سرمایہ نہ ہونے پر عمر بھر رائیگاں جانے کا دکھ انہیں اندر ہی اندر کھا جاتا ہے

اگر آپ پاکستان سے باہر کسی ملک میں ملازمت کر رہے ہیں تو اپنی واپسی کا بیک اپ لازمی بنا لیں ۔ عرب ممالک والوں کے لیے تو بہت ہی ضروری ہے کہ انہیں ایک دن لازمی لوٹ کر آنا ہے لیکن یورپ جانے والوں کو بھی اپنا بیک اپ رکھنا چاہیے ۔ 9/11 نے ہمیں بتا دیا ہے کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور یورپ کے شہریت یافتہ پاکستانیوں کو بھی واپس آنا پڑ سکتا ہے

اوورسیز کے لیے پاکستان میں سب سے محفوظ انویسٹمنٹ پراپرٹی ہے کیونکہ اس کی قیمت بڑھتی رہتی ہے ۔ میرے اپنے قریبی رشتے دار بیرون ملک رہے لیکن پاکستان میں پلاٹ خرید لیے ۔ پھر پاکستان لوٹے تو وہی سستے پلاٹ کروڑوں روپے کے ہو گئے اور اب نہ صرف وہ خود ماشااللہ دو کنال کے گھر میں رہتے ہیں بلکہ دوسرے گھر کرایہ پر دے کر ماہانہ آمدن کا سلسلہ بھی بنا ہوا ہے ۔

اگر گنجائش ہو تو بنا بنایا گھر خرید لیں۔ آپ جب بھی پاکستان آئے آپ کی انویسٹمنٹ ڈبل یا اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہو گی بلکہ ایک مکمل گھر بھی آپ کی ملکیت ہو گا ۔ اس سے کم گنجائش ہو تو پلاٹ خرید لیں اور آہستہ آہستہ گھر تعمیر کر لیں اور اگر پلاٹ کی اکٹھی رقم دینا بھی ممکن نہ ہو تو کسی اچھی اور مناسب زیر تعمیر ہاؤسنگ سوسائٹی میں قسطوں پر پلاٹ لے لیں ۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا فائدہ یہ ہے کہ اس کا ریکارڈ سوسائٹی آفس میں ہوتا ہے ۔ آپ سوسائٹی سے خریدیں تو اس وقت آپ کا آنا ضروری نہیں ہے بلکہ آپ کے ڈاکومنٹس وغیرہ ہونے چاہیے لیکن وہی پلاٹ اس وقت تک نہیں بک سکتا جب تک آپ اصل ڈاکومنٹس شناختی کارڈ وغیرہ کے ہمراہ خود سوسائٹی آفس آ کر تصدیق نہ کریں کہ واقعی آپ اپنا پلاٹ بیچ رہے ہیں ۔

آپ کا پلاٹ سوسائٹی میں بیس سال بھی پڑا رہے تو محفوظ ہوتا ہے ، اس پر قبضہ نہیں ہوتا کیونکہ یہ گلی محلے کی رجسٹری نہیں ہے ۔ سوسائٹی اس کی محافظ ہے ۔ آپ کی جتنی گنجائش ہو اس کے مطابق انویسٹمنٹ لازمی کریں تاکہ جب آپ پاکستان آئیں تو آپ کے پاس مضبوط فنانشل بیک اپ موجود ہو اور آپ ان ہزاروں پاکستانیوں کی طرح تہی دست نہ ہوں جن کی عمر بھر کی کمائی رائیگاں جاتی ہے

اس سلسلے میں آپ مشورہ کرنا چاہیے ، راہنمائی ،مدد ، پراسس وغیرہ کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں ، آپ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔ بیرون شہر اور بیرون ممالک کے دوستوں کے حوالے سے پہلے بھی میری یہ پریکٹس چل رہی ہے ڈاکومنٹس کو محفوظ طریقے سے ان تک پہنچانا ، قسطوں کی ادائیگی کے پراسس کو ساتھ لے کر چلنا اور دیگر دیکھ بھال اور وقتا فوقتاً انہیں اپ ڈیٹ کرنا بھی روٹین میں شامل ہے ۔ پاکستان میں پراپرٹی مینجمنٹ کا کانسیپٹ نہیں ہے لیکن ہماری ٹیم یہ کام بھی کرتی ہے ۔
محمد لیاقت قریشی
دھلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ
کال واٹس ایپ :
03139888735

زمر ویلی اسلام اباد Islamabad Property Dehlez.com
30/04/2026

زمر ویلی اسلام اباد




Islamabad Property
Dehlez.com

اوور سیز پاکستانیوں کا المیہ  ہیں  پاکستان سے باہر مزدوری کرنے والے ہر دوسرے پاکستانی کی ایک ہی کہانی ہے ۔اچھے مستقبل او...
26/04/2026

اوور سیز پاکستانیوں کا المیہ ہیں

پاکستان سے باہر مزدوری کرنے والے ہر دوسرے پاکستانی کی ایک ہی کہانی ہے ۔

اچھے مستقبل اور خاندان کی ضروریات پوری کرنے کا خواب آنکھوں میں سجائے یہ بیرون ملک جاتے ہیں ۔ انتہائی سخت وقت دیکھتے ہیں ۔ اپنی جوانی کا بڑا حصہ بیوی بچوں اور والدین سے دور گزار دیتے ہیں ۔ بیرون ممالک خصوصا عرب ممالک جانے والے وہاں کس حال میں ہیں یہ وہی جانتے ہیں ۔ پاکستان آتے ہیں تو بھرم رکھنے کے لیے کاٹن کا سوٹ پہنے نئے ہونڈا 125 پر گھومتے ہیں ، رشتے داروں اور دوستوں کو تحائف دیتے ہیں ۔ دو چار ماہ بعد واپس جاتے ہیں تو پھر وہی مزدوری ، وہی پریشانی اور وہی میلے کپڑوں میں پورا سال گزار دیتے ہیں ۔ پیسے بچانے کے لیے ہانڈی وال بنتے ہیں ، ایک ایک کمرے میں کئی کئی ساتھی مل کر رہتے ہیں ، چھوٹی چھوٹی بات پر بچت کرتے ہیں ۔اسی بچت سے بہنوں کی شادی ، بھائیوں کے ٹیشن اور بیوی بچوں کے اخراجات پورے کرتے ہیں ۔ جو ان سے کچھ بہتر ملازمت پر ہوں وہ بھی پاکستان پیسے بھیجتے ہیں اور یہ سب سوچتے ہیں کہ بس دو چار سال بعد واپس جا کر پاکستان میں سیٹل ہو جائیں گے ۔ اپنا کام کریں گے اور پرسکون زندگی گزاریں گے ۔ یہ دو چار سال دو دہائیوں پر مشتمل ہو جاتے ہیں ۔

بدقسمتی سے 15 ، 20 سال کی کڑی محنت اور جوانی تباہ کر دینے کے بعد جب یہ پاکستان آتے ہیں تو پتا لگتا ہے کہ ان کے پلے کچھ نہیں ہے ۔ جو پیسے یہ گھر بھیجتے رہے وہ ساتھ ساتھ ہی خرچ ہوتے گئے ۔ چھوٹا بھائی "وڈے پائین باہر ہوندے نیں" کے نعرے کے ساتھ ہڈ حرام ہو چکا ہوتا ہے ۔ ماں باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچے سب ان پیسوں پر ایکسٹرا عیاشی کرتے رہے جو انہوں نے بھیجے تھے ۔ کسی کا آئی فون کے بنا گزارہ نہیں ہوتا تھا ، کسی کو ہر سال نیا 125 چاہیے ہوتا تھا ، کوئی ڈیٹ اور دوستوں کی پارٹیوں میں پیسہ اجاڑتا رہا ۔ قصہ مختصر نہ تو کوئی سیونگ ہوتی ہے اور نہ ہی آمدن کا کوئی ایسا ذریعہ کہ کام چل سکے ۔ دو چار مہینے بعد ہی گھر والے زور دیتے ہیں گزارہ نہیں ہوتا آپ دوبارہ باہر چلے جائیں

انہیں اس وقت پاکستان میں نہ کوئی ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی کاروبار کے لیے پیسے ہوتے ہیں ۔ یہ دکھی دل کے ساتھ دوبارہ پردیس چلے جاتے ہیں اور پھر ان کی واپسی یا تو مر کے ہوتی ہے یا کسی سنگین بیماری کا شکار بن کر ناکارہ ہونے پر آتے ہیں ۔ جو پاکستان رک جائیں انہیں زیادہ عرصہ جیتے نہیں دیکھا ۔ اپنوں کی بے گانگی اور سرمایہ نہ ہونے پر عمر بھر رائیگاں جانے کا دکھ انہیں اندر ہی اندر کھا جاتا ہے

اگر آپ پاکستان سے باہر کسی ملک میں ملازمت کر رہے ہیں تو اپنی واپسی کا بیک اپ لازمی بنا لیں ۔ عرب ممالک والوں کے لیے تو بہت ہی ضروری ہے کہ انہیں ایک دن لازمی لوٹ کر آنا ہے لیکن یورپ جانے والوں کو بھی اپنا بیک اپ رکھنا چاہیے ۔ 9/11 نے ہمیں بتا دیا ہے کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور یورپ کے شہریت یافتہ پاکستانیوں کو بھی واپس آنا پڑ سکتا ہے

اوورسیز کے لیے پاکستان میں سب سے محفوظ انویسٹمنٹ پراپرٹی ہے کیونکہ اس کی قیمت بڑھتی رہتی ہے ۔ میرے اپنے قریبی رشتے دار بیرون ملک رہے لیکن پاکستان میں پلاٹ خرید لیے ۔ پھر پاکستان لوٹے تو وہی سستے پلاٹ کروڑوں روپے کے ہو گئے اور اب نہ صرف وہ خود ماشااللہ دو کنال کے گھر میں رہتے ہیں بلکہ دوسرے گھر کرایہ پر دے کر ماہانہ آمدن کا سلسلہ بھی بنا ہوا ہے ۔

اگر گنجائش ہو تو بنا بنایا گھر خرید لیں۔ آپ جب بھی پاکستان آئے آپ کی انویسٹمنٹ ڈبل یا اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہو گی بلکہ ایک مکمل گھر بھی آپ کی ملکیت ہو گا ۔ اس سے کم گنجائش ہو تو پلاٹ خرید لیں اور آہستہ آہستہ گھر تعمیر کر لیں اور اگر پلاٹ کی اکٹھی رقم دینا بھی ممکن نہ ہو تو کسی اچھی اور مناسب زیر تعمیر ہاؤسنگ سوسائٹی میں قسطوں پر پلاٹ لے لیں ۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا فائدہ یہ ہے کہ اس کا ریکارڈ سوسائٹی آفس میں ہوتا ہے ۔ آپ سوسائٹی سے خریدیں تو اس وقت آپ کا آنا ضروری نہیں ہے بلکہ آپ کے ڈاکومنٹس وغیرہ ہونے چاہیے لیکن وہی پلاٹ اس وقت تک نہیں بک سکتا جب تک آپ اصل ڈاکومنٹس شناختی کارڈ وغیرہ کے ہمراہ خود سوسائٹی آفس آ کر تصدیق نہ کریں کہ واقعی آپ اپنا پلاٹ بیچ رہے ہیں ۔

آپ کا پلاٹ سوسائٹی میں بیس سال بھی پڑا رہے تو محفوظ ہوتا ہے ، اس پر قبضہ نہیں ہوتا کیونکہ یہ گلی محلے کی رجسٹری نہیں ہے ۔ سوسائٹی اس کی محافظ ہے ۔ آپ کی جتنی گنجائش ہو اس کے مطابق انویسٹمنٹ لازمی کریں تاکہ جب آپ پاکستان آئیں تو آپ کے پاس مضبوط فنانشل بیک اپ موجود ہو اور آپ ان ہزاروں پاکستانیوں کی طرح تہی دست نہ ہوں جن کی عمر بھر کی کمائی رائیگاں جاتی ہے

اس سلسلے میں آپ مشورہ کرنا چاہیے ، راہنمائی ،مدد ، پراسس وغیرہ کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں ، آپ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔ بیرون شہر اور بیرون ممالک کے دوستوں کے حوالے سے پہلے بھی میری یہ پریکٹس چل رہی ہے ڈاکومنٹس کو محفوظ طریقے سے ان تک پہنچانا ، قسطوں کی ادائیگی کے پراسس کو ساتھ لے کر چلنا اور دیگر دیکھ بھال اور وقتا فوقتاً انہیں اپ ڈیٹ کرنا بھی روٹین میں شامل ہے ۔ پاکستان میں پراپرٹی مینجمنٹ کا کانسیپٹ نہیں ہے لیکن ہماری ٹیم یہ کام بھی کرتی ہے ۔
محمد لیاقت قریشی
دھلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ
کال واٹس ایپ :
03139888735

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dehlez.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dehlez.com:

Shortcuts

Share

Category