11/08/2026
🔳 کوئٹہ۔۔۔ 900 کلومیٹر دور
بلوچستان کے ایک شہری کو اگر اپنے سرکاری کام کے لیے گوادر، تربت یا خضدار جیسے دور دراز علاقوں سے 900 کلومیٹر دور کوئٹہ جانا پڑے، تو آنے جانے کا سفر تقریباً 1,800 کلومیٹر بن جاتا ہے اور دو سے تین دن صرف راستوں اور سفر میں گزر جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایک صوبائی دارالحکومت اپنے شہری سے اتنا دور ہونا چاہیے؟
موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبے بننا ضروری ہیں؟ | قسط: 6
عنوان: بلوچستان میں کتنے صوبے بنائے جا سکتے ہیں؟
🔺 پاکستان کا مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد نہیں، بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ میری تحقیق کا بنیادی نتیجہ یہی ہے کہ صوبے اتنے بڑے نہ ہوں کہ عام شہری کے لیے اپنا دارالحکومت ہی ایک الگ دنیا محسوس ہو۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کا مطالبہ نیا نہیں۔ ماضی میں پشتون اکثریتی علاقوں کے لیے الگ صوبے اور حالیہ برسوں میں جنوبی بلوچستان کو الگ صوبہ بنانے کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔
تاہم پورے بلوچستان کے 6 صوبوں کا زیرِ تحریر ماڈل ہمارے تھنک ٹینک کا ایک نیا انتظامی تصور ہے، جسے تاریخی مطالبات، جغرافیہ، آبادی، فاصلوں اور معاشی امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
8 جولائی 2026 کو بلوچستان حکومت کے Revenue Department کے نوٹیفکیشن کے بعد بلوچستان میں 11 ڈویژن اور 41 اضلاع ہو گئے ہیں۔ کوئٹہ کو East Quetta اور West Quetta میں تقسیم کیا گیا ہے، مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کیا گیا ہے، اور پشین، خضدار، لسبیلہ اور کوہِ سلیمان سمیت 4 نئے ڈویژن بنائے گئے ہیں، جن کی ترتیب یہ ہے۔
اس آرٹیکل کو مزید پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://syedshayan.com/pakistan-administrative?post=balochistan-six-provinces