SyedShayan.com

Website

SyedShayan.com Think Tank for Urban and Regional Development, Natural Resources
and Consumer Policy

SyedShayan.com is a space for thoughtful inquiry, original perspective, and meaningful dialogue with a clear focus on Pakistan’s current affairs, politics, and shifting social landscape. In a world saturated with noise, we aim to illuminate complexity, not escape it, and to offer clarity where narratives often collapse into confusion. At the core of our mission is Pakistan’s younger generation: intelligent, restless, and increasingly disconnected from political and societal context. We speak to them with intention, offering perspectives that foster critical thinking, civic awareness, and a deeper sense of participation in the country’s unfolding story. Our work examines how systems function — from governance and law to land, identity, and media — and how these intersect with daily experience. We explore real estate, economics, education, and technology as instruments of both power and possibility, because no nation can advance without knowledge, innovation, and control over its intellectual and physical resources. Founded by Syed Shayan, this initiative brings together research, reflection, and conversation through longform essays, expert analysis, and multimedia storytelling. SyedShayan.com is not just a website; it is a living platform for those who seek understanding over reaction and substance over spectacle.

🔳 کوئٹہ۔۔۔ 900 کلومیٹر دوربلوچستان کے ایک شہری کو اگر اپنے سرکاری کام کے لیے گوادر، تربت یا خضدار جیسے دور دراز علاقوں س...
11/08/2026

🔳 کوئٹہ۔۔۔ 900 کلومیٹر دور
بلوچستان کے ایک شہری کو اگر اپنے سرکاری کام کے لیے گوادر، تربت یا خضدار جیسے دور دراز علاقوں سے 900 کلومیٹر دور کوئٹہ جانا پڑے، تو آنے جانے کا سفر تقریباً 1,800 کلومیٹر بن جاتا ہے اور دو سے تین دن صرف راستوں اور سفر میں گزر جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایک صوبائی دارالحکومت اپنے شہری سے اتنا دور ہونا چاہیے؟
موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبے بننا ضروری ہیں؟ | قسط: 6
عنوان: بلوچستان میں کتنے صوبے بنائے جا سکتے ہیں؟
🔺 پاکستان کا مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد نہیں، بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ میری تحقیق کا بنیادی نتیجہ یہی ہے کہ صوبے اتنے بڑے نہ ہوں کہ عام شہری کے لیے اپنا دارالحکومت ہی ایک الگ دنیا محسوس ہو۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کا مطالبہ نیا نہیں۔ ماضی میں پشتون اکثریتی علاقوں کے لیے الگ صوبے اور حالیہ برسوں میں جنوبی بلوچستان کو الگ صوبہ بنانے کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔
تاہم پورے بلوچستان کے 6 صوبوں کا زیرِ تحریر ماڈل ہمارے تھنک ٹینک کا ایک نیا انتظامی تصور ہے، جسے تاریخی مطالبات، جغرافیہ، آبادی، فاصلوں اور معاشی امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
8 جولائی 2026 کو بلوچستان حکومت کے Revenue Department کے نوٹیفکیشن کے بعد بلوچستان میں 11 ڈویژن اور 41 اضلاع ہو گئے ہیں۔ کوئٹہ کو East Quetta اور West Quetta میں تقسیم کیا گیا ہے، مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کیا گیا ہے، اور پشین، خضدار، لسبیلہ اور کوہِ سلیمان سمیت 4 نئے ڈویژن بنائے گئے ہیں، جن کی ترتیب یہ ہے۔

اس آرٹیکل کو مزید پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://syedshayan.com/pakistan-administrative?post=balochistan-six-provinces

🔳 کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بنایا جانا واقعتاً ضروری ہے؟ | قسط 4عنوان: کے پی کے کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہی...
11/08/2026

🔳 کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بنایا جانا واقعتاً ضروری ہے؟ | قسط 4
عنوان: کے پی کے کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟
🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
خیبر پختونخوا، جسے ماضی میں صوبہ سرحد اور تاریخی طور پر خطۂ گندھارا و افغانیہ کے نام سے جانا جاتا رہا ہے،کی موجودہ جغرافیائی شکل بنیادی طور پر 31 مئی 2018ء کو وجود میں آئی، جب 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سابق فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا۔ اس سے پہلے فاٹا کے پی کے کا حصہ نہیں بلکہ وفاق کے زیرِ انتظام ایک الگ علاقہ تھا۔
البتہ اس صوبے کا نام صوبہ سرحد سے خیبر پختونخوا 2010ء میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیل ہوا ۔
ہمارے تھنک ٹینک کے ابتدائی تجزیے کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کے لیے 5 صوبوں کا ماڈل آبادی، جغرافیے، معاشی صلاحیت اور انتظامی توازن کے اعتبار سے زیادہ قابلِ عمل دکھائی دیتا ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
🔘 صوبہ پشاور
▫️اضلاع: پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، صوابی
▫️آبادی 2023: 1 کروڑ 29 لاکھ 74 ہزار 469
▫️کل رقبہ: 7,437 مربع کلومیٹر
پشاور کو الگ صوبہ بنانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان اور صوابی ایک ہی جغرافیائی خطے میں واقع ہیں اور آپس میں مضبوط سڑکوں اور آمدورفت کے نظام سے منسلک ہیں۔ پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ تاریخی طور پر وادیٔ پشاور کے شہری، زرعی اور تجارتی نظام کا حصہ رہے ہیں، جبکہ مردان اور صوابی بھی اسی علاقے کی معیشت اور روزمرہ زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
یہ خطہ رقبے میں زیادہ بڑا نہیں، لیکن آبادی بہت زیادہ ہے اور تعلیم، صحت، صنعت، تجارت، زراعت اور سرکاری سہولتوں کے لحاظ سے پورے خیبر پختونخوا میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
پشاور تعلیم، علاج، روزگار، کاروبار اور سرکاری کاموں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ نوشہرہ صنعت، دفاعی تنصیبات اور زراعت کے لحاظ سے اہم ہے، چارسدہ زراعت اور خوراک سے متعلق کاروبار میں نمایاں ہے، جبکہ مردان اور صوابی تعلیم، صنعت اور زرعی پیداوار میں مضبوط مقام رکھتے ہیں۔ اگر ان علاقوں کو ملا کر الگ صوبہ بنایا جائے تو موجودہ خیبر پختونخوا پر انتظامی بوجھ کم ہوگا اور اس خطے کی ضروریات کے مطابق فیصلے زیادہ تیزی اور بہتر انداز میں کیے جا سکیں گے۔

اس آرٹیکل کو مزید پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://syedshayan.com/pakistan-administrative?post=kpk-new-provinces

Why Are Electricity Bills So High? Have Your Say on Pakistan’s Power SectorElectricity bills, capacity charges, IPPs, po...
10/08/2026

Why Are Electricity Bills So High? Have Your Say on Pakistan’s Power Sector

Electricity bills, capacity charges, IPPs, power theft and energy sector reforms affect millions of Pakistanis every day.

We’re conducting a public survey to understand what people think about the key challenges facing Pakistan’s power sector and what reforms they believe are needed.

It takes only 3–5 minutes to participate. Your response will contribute to independent public research and a more informed discussion on better energy policies.

Share your opinion and be part of the conversation.

👉 Take the Survey:

Participate in SyedShayan.com public survey on Pakistan electricity system, energy governance, public opinion and policy reform.

🔳 پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث بلاشبہ غلط وقت پر چھیڑا گیا ایک درست موضوع ہے۔مختلف عالمی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے ...
08/08/2026

🔳 پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث بلاشبہ غلط وقت پر چھیڑا گیا ایک درست موضوع ہے۔

مختلف عالمی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جب نئے صوبے بنتے ہیں تو لوگ صحت، روزگار اور عدالتوں کے کاموں کے لیے بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کم کرتے ہیں، جس سے معاشی سرگرمیاں پورے ملک میں پھیل جاتی ہیں۔

▫️پاکستان میں رہنے والوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صوبہ کوئی الگ ریاست نہیں، بلکہ ریاست کے نظام کو چلانے کی ایک اکائی ہوتا ہے۔

▫️انتظامی تقسیم کو سیاسی تقسیم نہیں کہا جا سکتا۔ جس طرح ایک بڑے ادارے، بینک یا کمپنی کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے اس کے مختلف زونز یا برانچز بنائی جاتی ہیں، بالکل اسی طرح صوبے بھی صرف گورننس کو بہتر بنانے کا ایک ذریعہ ہیں۔

▫️عوام اس بات کے شدید حامی ہیں کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ ان کے اپنے خطے پر خرچ ہو۔ جتنا صوبہ چھوٹا اور ان کے قریب ہوگا، فنڈز کے ضیاع اور کرپشن کو چیک کرنا اتنا ہی آسان ہوگا۔

▫️جب انتظامی اکائیاں چھوٹی اور بااختیار ہوتی ہیں تو مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا بوجھ کم ہوتا ہے اور وفاق زیادہ مستحکم ہوتا ہے، کیونکہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے مرکز یا دور دراز دارالحکومت پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔

▫️مختلف نسلی، لسانی یا جغرافیائی تنوع (Diversity) والے ممالک میں جب نئے صوبے بنائے گئے یا علاقائی خودمختاری دی گئی تو مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت اور محرومی کے احساس میں واضح کمی دیکھی گئی۔

▫️عالمی سطح پر کیے گئے سرویز اور تحقیقی رپورٹس میں جب لوگوں سے صوبوں کی تشکیل اور اختیارات کے بارے میں پوچھا گیا تو 70 فیصد سے زائد لوگوں نے یہ تسلیم کیا کہ چھوٹے اور بااختیار صوبوں میں تعلیم، صحت اور پولیسنگ کا نظام بڑے اور مرکز سے دور صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور تیز ہوتا ہے۔

🔳 موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بنایا جانا لازمی قرار دیا گیا ہے؟ | قسط 5

عنوان: صوبہ ریاست نہیں ہوتا بلکہ نظامِ حکومت چلانے کی اکائی ہوتا ہے۔

🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔

تحریر و تحقیق: سید شایان

صوبے بنانے کا مقصد حکومت تک عوام کی آسان رسائی اور اپنے علاقے کے ماحول کے مطابق قانون سازی ہے۔

اس کے سات (7)بڑے فائدے تو یہ ہیں:

1۔ حکومت قریب آتی ہے
آج بہت سے لوگوں کو اپنے سرکاری کام، شکایت یا مسئلے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت جانا پڑتا ہے۔ نیا صوبہ بننے سے حکومت، سیکرٹریٹ اور بڑے ادارے ان کے قریب آ جاتے ہیں۔

اس آرٹیکل کو مزید پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://syedshayan.com/pakistan-administrative?post=new-provinces-debate

🔳 جب بھی کراچی یا سندھ کے کسی حصے کو الگ صوبہ یا انتظامی اکائی بنانے کی بات ہوتی ہے تو اسے عوامی سطح پر سندھ کی تاریخی و...
07/08/2026

🔳 جب بھی کراچی یا سندھ کے کسی حصے کو الگ صوبہ یا انتظامی اکائی بنانے کی بات ہوتی ہے تو اسے عوامی سطح پر سندھ کی تاریخی وحدت کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے، خواہ اس میں عام آدمی کا کتنا ہی فائدہ کیوں نہ ہو۔ اور یہیں سے شاطر سیاست دان عوام کی تاریخ سے لاعلمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں، حالانکہ قدیم سندھ سینکڑوں سال پہلے بھی انتظامی طور پر تین بڑی انتظامی اکائیوں (Administrative Regions) میں تقسیم تھا۔ بالائی سندھ سِرو، وسطی سندھ وِچولو اور زیریں سندھ لاڑ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

▫️ سندھ میں زمین صرف ایک جغرافیائی رقبہ ہی نہیں بلکہ “سندھو دھرتی”کا ایک مقدس اور جذباتی تصور بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام کا اپنی زمین سے تعلق سیاسی یا معاشی سے زیادہ وجودی (Existential) نوعیت کا ہے۔

🔳 موضوع: پاکستان میں صوبوں کی نئی تقسیم کیسے ممکن ہے؟ | قسط 3
عنوان: سندھ کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟

🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔

تحریر و تحقیق: سید شایان

سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام پر کسی بھی بحث سے پہلے درج ذیل تاریخی پس منظر (Historical Context) کو سمجھنا ضروری ہے۔

🔳 23 جولائی 1948ء کو قائدِاعظم محمد علی جناح اور مرکزی قومی اسمبلی کے فیصلے کے تحت کراچی کے تقریباً 812 مربع میل علاقے کو سندھ سے الگ کر کے وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ اور اسے پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اور فیڈرل کیپیٹل ٹیریٹری (Federal Capital Territory) کا نام دیا گیا۔

1955ء میں ون یونٹ قائم ہونے کے باوجود کراچی کی الگ وفاقی حیثیت برقرار رہی۔ صدر ایوب خان کے دور میں دارالحکومت پہلے عارضی طور پر راولپنڈی اور بعد میں اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔

اس آرٹیکل کو مزید پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://syedshayan.com/pakistan-administrative?post=sindh-division-into-four-provinces

🔳 کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا رقبہ گریٹ برطانیہ (Great Britain)، یعنی انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز، کے ...
05/08/2026

🔳 کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا رقبہ گریٹ برطانیہ (Great Britain)، یعنی انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز، کے مجموعی رقبے کے تقریباً برابر ہے، جبکہ آبادی کے لحاظ سے پنجاب، گریٹ برطانیہ سے تقریباً دو گنا بڑا ہے؟

▫️پاکستانی صوبہ پنجاب دنیا کے 180 سے زیادہ ممالک سے آبادی میں بڑا ہے اور برطانیہ، فرانس، اٹلی، اسپین، کینیڈا، سعودی عرب، آسٹریلیا، جاپان، فلپائن، مصر، ویت نام اور ایران جیسے بڑے اور گنجان آباد ممالک سے بھی زیادہ آبادی (12 کروڑ 77 لاکھ) رکھتا ہے۔

▫️آبادی کا یہ عالم ہے کہ ہمارا پیارا صوبہ پنجاب، جس کی آبادی 13 کروڑ 50 لاکھ تک جا پہنچی ہے، دنیا کے دسویں سب سے زیادہ آبادی والے ملک میکسیکو کے تقریباً برابر ہے، جس کی آبادی بھی لگ بھگ 13.5 کروڑ ہے۔ میکسیکو کو چلانے کے لیے 31 الگ ریاستیں (States) اور ایک وفاقی ضلع موجود ہے، جبکہ پنجاب کا پورا انتظامی نظام صرف ایک صوبائی مرکز، لاہور، کے زیرِ اثر ہے۔

▫️بھارت نے 1947 کے بعد انتظامی ضرورت اور عوامی مطالبات کے تحت مختلف ادوار میں 17 نئی ریاستیں قائم کیں یا بعض علاقوں کو مکمل ریاستی درجہ دیا۔ ان میں گجرات، ہریانہ، ناگالینڈ، میگھالیہ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ اور تلنگانہ نمایاں مثالیں ہیں۔ آج بھارت 28 ریاستوں اور 8 وفاقی اکائیوں پر مشتمل ملک ہے، جبکہ پاکستان اب بھی بنیادی طور پر صرف 4 صوبوں اور 3 وفاقی اکائیوں تک محدود ہے۔

🔳 موضوع: آج پاکستان میں صوبوں کی نئی تقسیم کیسے ممکن ہے؟ | قسط 2

عنوان: پنجاب کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟

🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر مستقل انتشار کسی مسئلے کا حل نہیں۔ عوام، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ سنجیدہ اور شفاف بحث کے بعد ایک واضح قومی اتفاقِ رائے تک پہنچیں۔

تحریر و تحقیق: سید شایان

پچھلی قسط میں ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ عوام کی سرکاری اداروں تک آسان رسائی کے لیے صرف مضبوط بلدیاتی نظام کافی ہے یا نئے صوبے بھی ضروری ہیں۔

آج ہم اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پنجاب کو 6 نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کے اپنے مجوزہ ماڈل اور اس کے فکری و عملی جواز (Rationale) کا جائزہ لیں گے۔

ساتھ ہی اس قسط میں یہ بنیادی سوال بھی زیرِ بحث آئے گا کہ پاکستان جیسے بڑے اور متنوع وفاق میں بہتر حکمرانی کے لیے کون سا ماڈل زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے:

اس آرٹیکل کو مزید پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://syedshayan.com/pakistan-administrative?post=should-punjab-be-divided-into-six-provinces-part-2

اگر پنجاب کو 6 صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو ؟؟اور پاکستان کو مجموعی طور پر 22 صوبوں میں تقسیم کیا جاۓ تو  ؟؟▫️ نئے صوبوں ...
05/08/2026

اگر پنجاب کو 6 صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو ؟؟
اور پاکستان کو مجموعی طور پر 22 صوبوں میں تقسیم کیا جاۓ تو ؟؟

▫️ نئے صوبوں کی تشکیل سیاسی، لسانی یا نسلی بنیادوں کے بجائے آبادی، معاشی کلسٹرز اور زمینی فاصلوں کو سامنے رکھ کر کی جائے تو اس سے حکومت اور عوام کے درمیان دوری کم ہو گی، علاقائی معیشتیں مضبوط ہوں گی اور قومی یکجہتی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔

▫️ جب تک معیاری ہسپتال، کالج، یونیورسٹیاں اور روزگار کے مواقع ہر علاقے میں دستیاب نہیں ہوں گے، لوگ بہتر سہولتوں کی تلاش میں بڑے شہروں کا رخ کرتے رہیں گے۔ نتیجتاً بڑے شہر آبادی کے غیر معمولی دباؤ اور انتظامی مشکلات کا شکار رہیں گے، جبکہ دور دراز علاقے ترقی اور بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں گے۔

▫️افغانستان رقبے میں پاکستان سے نسبتاً چھوٹا ہے، مگر وہاں 34 صوبے ہیں، جبکہ پاکستان صرف 4 صوبوں میں تقسیم ہے۔ ہمارے ہاں نئے صوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاست دانوں کی ہوسِ اقتدار ہے، جو بہتر انتظام اور عوامی سہولت کے بجائے بڑے صوبوں پر اپنی حکمرانی اور اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتے ہیں

موضوع: پاکستان کی نئی انتظامی تقسیم کیسے ممکن ہے؟ | قسط 1
عنوان: پنجاب کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟

🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر مستقل انتشار حل نہیں۔ عوام، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کھلی بحث کے بعد واضح قومی اتفاقِ رائے تک پہنچیں۔

تحریر و تحقیق: سید شایان

میں گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے آئی پی پیز اور توانائی کے بحران پر تحقیقی سلسلہ شائع کر رہا ہوں۔ تاہم نئے صوبوں کی بحث چونکہ ہمارے تھنک ٹینک کے بنیادی دائرۂ کار، یعنی Urban and Regional Development اور Governance، سے براہِ راست متعلق ہے، اس لیے آئی پی پیز کا سلسلہ عارضی طور پر روک کر اس اہم قومی موضوع پر میں اپنی راۓ قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔

🔳 پاکستان میں ان دنوں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مختلف تجاویز زیرِ بحث ہیں۔ اسی تناظر میں ہمارے تھنک ٹینک نے بھی ایک فکری مشق (Academic Debate) کے طور پر صوبہ پنجاب کی ممکنہ انتظامی تقسیم کا نقشہ اور تجزیہ تیار کیا ہے۔ یہ کسی حکومتی منصوبے یا سرکاری تجویز کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ انتظامی اصلاحات پر جاری علمی بحث میں ایک نیا تحقیقی نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔

اس آرٹیکل کو مزید پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://syedshayan.com/pakistan-administrative?post=should-punjab-be-divided-into-six-provinces

پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے پر قرضے اور مالی واجبات تقریباً 38.81 بلین ڈالر، یعنی تقریباً 107 کھرب 77 ارب روپے ت...
29/07/2026

پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے پر قرضے اور مالی واجبات تقریباً 38.81 بلین ڈالر، یعنی تقریباً 107 کھرب 77 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں ۔

اس قسط میں ہم واضح کریں گے کہ پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے پر مختلف ممالک کے کتنے قرضے اور واجبات ہیں، ان رقوم کی اصل نوعیت کیا ہے،کون سی رقم باقاعدہ قرض ہے، کون سی رقم واجب الادا بقایا ہے، اور کن معاملات میں جرمانوں یا دیگر ادائیگیوں کا سامنا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://syedshayan.com/ipps-in-pakistan/pakistan-power-sector-debt/urdu

28/07/2026

آج ہر پاکستانی خود سے ایک سوال ضرور کرتا ہے

جب ملک میں آئی پی پیز IPPs نہیں تھے، تب لوڈشیڈنگ ضرور تھی، لیکن کم از کم ہم صرف اتنی بجلی کا بل دیتے تھے جتنی ہم استعمال کرتے تھے۔

آج ہم استعمال شدہ بجلی کی قیمت کے ساتھ آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز، ان کا گارنٹی شدہ منافع، ان کے بجلی گھروں کی مینٹیننس، ملازمین کی تنخواہیں، انشورنس اور دیگر اضافی اخراجات بھی ادا کر رہے ہیں۔
لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ اتنے بھاری بل دینے کے باوجود بھی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ بلکہ کئی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ آئی پی پیز لگانے کا فائدہ آخر کس کو ہُوا۔
مزید پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://syedshayan.com/ipps-in-pakistan/shahid-hasan-khan-1994-power-policy-interview/urdu

Address

Head Office: 38/A-5 Happy Homes, Shayan Lane, Main Gulberg
Lahore
54660

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SyedShayan.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share